گر پڑو تو اٹھ جانا
گر پڑو تو اٹھ جانا
Moodycinematicpopballad,malevocalswithintimateclose-mictoneoversoftpianoanddistantpads;versesstayhushedandfragile,kickandlowpercussionswellintoananthemic,tearfulchoruswithairybackingharmonies,stringsrisinginthebridgeforafinal,catharticliftbeforeagentlefade.,sad,motivational
[Verse 1]
رات لمبی ہے
سانس رُکی رُکی
آئینے میں خود سے
آنکھ بھی نہ مِلی

دل تھکا ہوا
راستہ بھی خفا
پاؤں زخمی ہیں
پھر بھی چلنا ہے نا

[Chorus]
گر پڑو تو اٹھ جانا
ابھی کہانی ختم کہاں
آنسوؤں کے پار بھی تو
اِک نیا سا صُبحِ رواں

ٹوٹو تو سنبھل جانا
درد کو دعا بننے دو
اپنا ہی ہاتھ تھام کے یارو
خود کو ذرا سا جیتنے دو (اوہ اوہ)

[Verse 2]
سب نے کہہ دیا
“تیرا کچھ نہیں”
دل نے دھیرے سے
کہا “میں ہوں یہیں”

زخم گن گن کے
یاد کر خوشی
خاک میں بھی تو
چمک ہوتی کہیں

[Chorus]
گر پڑو تو اٹھ جانا
ابھی کہانی ختم کہاں
آنسوؤں کے پار بھی تو
اِک نیا سا صُبحِ رواں

ٹوٹو تو سنبھل جانا
درد کو دعا بننے دو
اپنا ہی ہاتھ تھام کے یارو
خود کو ذرا سا جیتنے دو

[Bridge]
اک دن یہی تھکن
تیرا فخر کہلائے گی
جو رات نے چھینا سب
صبح واپس لائے گی (ہاں)

[Chorus]
گر پڑو تو اٹھ جانا
دل کو پھر سے نام دے دو
ٹوٹے خوابوں کے ٹکڑوں سے
اپنا نیا آسمان بُن لو

ٹوٹو تو سنبھل جانا
درد کو صدا بننے دو
رو رو کے مسکرانا سیکھو
خود کو ذرا سا جیتنے دو (اوہ ہاں)